فضلِ رب سے خوبصورت دلنشیں سہرا لگے
دیکھئے دولہا تصدق! چاند کا ٹکڑا لگے
حسرتیں دل کی مکمل شیخ انور کی ہوئی
آج خوشیوں کا سماں کتنا حسیں واللہ لگے
آپ کی خاطر ہی ارشد ہر زباں پر ہے دعا
زندگی میں دکھ نہ کوئی آپ کو صدمہ لگے
مسکراتی ازدواجی زندگی ہو آپ کی
خوبصورت زندگی کا آپ کو لمحہ لگے
بولتے ہیں جھوم کے دولھے میاں سے امتیاز
آپ کا میرے برادر ہر کوئی شیدا لگے
شکرِ مولیٰ ہیں ادا کرتے محمد آفتاب
شادمانی میں بسا دیکھو! مِرا کنبہ لگے
سنتِ سرکارﷺ پوری اے تصدق ! ہو گئی
جگمگاتا چاند سا دولھے کا اب مکھڑا لگے
0 تبصرے