تِری رضا ہے خدا کی رضا غریب نواز
خدا کا تُو ہے خدا ہے تِرا غریب نواز
تِری نگاہِ عطا سے بعید کچھ بھی نہیں
جسے جو چاہے وہ کر دے عطا غریب نواز
تِری غریب نوازی کے ہیں سنے قصّے
نواز دے ہمیں بہرِ خدا غریب نواز
حسن حسین کا صدقہ عطا ہو اے خواجہ
تِرے حضور کھڑا ہے گدا غریب نواز
غم و الم سے مِری ذات کو رہائی دے
تجھے رسولِﷺ کا ہے واسطہ غریب نواز
بخوبی جانتے ہیں آپ اضطرابِ دل
ہمارے دل کی بھی سنئے صدا غریب نواز
!طفیلِ حضرتِ عثمان و زندنی خواجہ
نگاہ کیجئے ہم پر شہا غریب نواز
تمہارے در سے تصدق کی ہے امید بندھی
سنے گا کون تمہارے سِوا غریب نواز
0 تبصرے