فضلِ رب سے ہم پہ سایہ جعفرِ صادق کا
کھا رہے ہیں جو وہ صدقہ جعفرِ صادق کا ہے
فاطمہ زہرہؓ کے گلشن کے مہکتے پھول ہیں
کربلا والوں سے رشتہ جعفرِ صادق کا ہے
بو حنیفہ بھی بجھاتے ہیں جہاں پر تشنگی
علم کا جاری وہ چشمہ جعفرِ صادق کا ہے
غیر بھی گرویدہ ہو جاتے ہیں چہرہ دیکھ کر
اللہ اللہ ایسا چہرہ جعفرِ صادق کا ہے
انّما یخشی کے سچی ترجمانی جس نے کی
وہ عظیم الشان رتبہ جعفرِ صادق کا ہے
رشک کرتے آج تک ہیں جس پہ اربابِ صفا
بالیقیں وہ زہد و تقوی جعفرِ صادق کا ہے
اے تصدق! بن گیا ہے مہبطِ نورِ خدا
خوب صورت ایسا روضہ جعفرِ صادق کا ہے
0 تبصرے