بڑے خلوص کے پیکر ہیں مدرسے والے
محبتوں کے سمندر ہیں مدرسے والے
مہک سے اپنی معطر کئے ہیں گلشن کو
یقین مان ! گلِ تر ہیں مدرسے والے
فقط ہے مشغلہ تعلیم اور تعلم کا
اسی لئے ہی تو بہتر ہیں مدرسے والے
انہیں سے ملک میں رعنائیاں بکھرتی ہیں
ہمارے ملک کے گوہر ہیں مدرسے والے
دل و دماغ سے رکھتے ہیں دور بغض و حسد
بہت ہی نیک ہیں خوشتر ہیں مدرسے والے
انہیں سے بزمِ محبت ہوئی فروزاں ہے
ہماری قوم کے رہبر ہیں مدرسے والے
کوئی ادیب مفکر کوئی مدبر ہے
کہیں صحافی سخنور ہیں مدرسے والے
بخوبی اپنے فرائض کو یہ نبھاتے ہیں
عمل کے گوشے میں ازبر ہیں مدرسے والے
ہمیشہ درس دیا کرتے نیک کاموں کا
قسم خدا کی مخیّر ہیں مدرسے والے
خدا کے واسطے اس بات کو سمجھ جاؤ!
سنوار دیتے مقدر ہیں مدرسے والے
نثار زندگی کرتے جو دین کی خاطر
سنو ! وہ مردِ قلندر ہیں مدرسے والے
ہماری آنکھ سے آنسو ٹپکنے لگتا ہے
کوئی جو کہتا ستمگر ہیں مدرسے والے
سلوک ان سے غلاموں کے جیسا کرتے ہو
تمہارے باپ کے نوکر ہیں مدرسے والے؟
قیاس ہم اے تصدق ! کبھی نہ کر پائے
ہماری فکر سے برتر ہیں مدرسے والے
0 تبصرے