بدلے گا یہ زمانہ آغازِ باب ہوگا
اِک روز ان شاء اللہ حق بازیاب ہوگا
خاموشیوں کو میری تم بزدلی نہ سمجھو!
ٹوٹے گی جو خموشی پھر انقلاب ہوگا
کرتوت تیرے ظالم تیرے خلاف ہونگے
ظلم و ستم کا چہرہ یوں بے نقاب ہوگا
آئے گا وقت ایسا اِک روز ان شاء اللہ
ظالم کا ریزہ ریزہ ہر ایک خواب ہوگا
زخموں کو تازہ کرکے رکھتے ہیں اسلئے ہم
چن چن کے دیکھ لینا اِک دن حساب ہوگا
تھم جائیں گی یقینا نفرت کی یہ ہوائیں
نادان سوچتا ہے کہ وہ کامیاب ہوگا
حالات بد سے بدتر ہو جائیں گے تصدق!
اس قوم کا محافظ گر محوِ خواب ہوگا
0 تبصرے