نظر میں ہر گھڑی جلوہ ہے میرے مرشد کا
دل و دماغ پہ پہرہ ہے میرے مرشد کا
خدا بھی دیکھ کے چہرے کو یاد آتا ہے
قسم خدا کی وہ چہرہ ہے میرے مرشد کا
بہار آج تلک اس چمن میں باقی ہے
جہاں پہ پڑ گیا تلوہ ہے میرے مرشد کا
زبانِ شوق پہ مرشد کا نامِ نامی ہے
زمانہ ہو گیا شیدا ہے میرے مرشد کا
فرشتے آتے ہیں ہر وقت دید کی خاطر
چمکتا نور سے روضہ ہے میرے مرشد کا
جہاں پہ رحمتِ مولیٰ اترتی رہتی ہے
وہ بستی ایسا وہ قصبہ ہے میرے مرشد کا
دِوانہ کر دیا مجھ کو ہے جلوۂِ جاناں
حسین چاند سا چہرہ ہے میرے مرشد کا
جدھر بھی جاؤں تصدق انہیں کا چرچا ہے
کھنکتا دہر میں سکّہ ہے میرے مرشد کا
0 تبصرے